urdu

نصب العین (Aims and Objective)

نوجوانوں اور طلبا کے درمیان دعوتی کام کا انجام دینا۔

نوجوانوں اور طلباء کے درمیان اسلام کے پیغام کو پھیلانا۔

نوجوانوں اور طلباء کو عصری درسگاہوں اور یونیورسٹیز میں اسلامی ماحول فراہم کرنا۔

نوجوانوں اور طلباء کو تعلیم یافتہ بنانا اور اسکے لئے جدوجہد کرنا۔

نوجوانوں اور طلباء کو ملت اور ملک کا سرمایہ بنانا۔

سماج اور ماحول کو اسلامی تہذیب اور تمدن کا گہوارہ بنانا۔

نوجوانوں اور طلباء کے دلو میں انبیاء کرام کی محبت، اولیاء کرام کی عظمت اور بزرگان دین کی الفت پیدا کرنا۔

نوجوانوں اور طلباء میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنا۔

اصولیات و منہاجیات (Methodology)

تنظیم کے اغراض و مقاصد کے حصولیابی کے لئے مندرجہ ذیل منہاجیات و اصولیات اختیار کیے جائیں گے۔

اسلام کے پیغام اور دعوتی کام کے فروغ کے لئے کالج کیمپس، یونیورسٹی کیمپس و شہر میں ہفتہ واری، پندرہ روز، یا ماہانہ‘‘درس قرآن’’کا انعقادکرنا۔

مختلف اوقات پر مختلف عنوان پر سیمنار، کانفرنس، سمپوزیم،بحث ومباحثہ کا انعقاد کرنا۔

تعلیمی بیداری اور علمی معیار کے فروغ کے لئے ورکشاپ کا انعقادکرنا۔

نوجوانوں اور طلباء کو کیمپس میں اسلامی ماحول دینے کے لئے درس قرآن و درس حدیث کے ساتھ ساتھ مختلف مضامین پر لٹریچر فراہم کرنا۔

نوجوانوں اور طلباء کو دنیاوی اعتبار (تعلیم اور جاب) سے دوسرے قوموں کے مساوی بنانے کے لئے ضروری مواقع فراہم کرنا، گاییڈئنس کیمپ (رہنمائی کیمپ) کا انعقادکرنا۔

نوجوانوں اور طلباء میں تصوف اور روحانیت کے فروغ کے لئے بزرگان دین کے عرس پر کیمپ کا انعقاد کرنا۔

نوجوانوں اور طلباء میں اخلاقیات اورتہذیب و ثقافت کے فروغ کے لئے ورکشاپ کا انعقاد، لٹریچر اور کتب فراہم کرنا۔

مدارس اور دینی ادارو ں کے طلبا کو یونیورسٹی اور کالج میں داخلہ کے لئے ضروری وسائل فراہم کرنا و بڑے سنی اجلاس و عرس کے موقع پر‘‘ہیلپ کیمپ’’کا انعقاد کرنا۔ (جیسے عرس قاسمی برکاتی، عرس رضوی اور اجمیر شریف کے عرس کے موقعے پر)

مختلف عنوانات پر مشتمل مضامین، پمفلیٹ، کیلینڈر اور پوسٹر فراہم کرنا۔

سالانہ نظام تقویم (Yearly Work Calendar)

لٹریچر اور پمفلیٹ کے ذریعہ زکوٰۃ کی آگاہی اور واقفیت پیدا کرنا، شب قدر کی اہمیت و افادیت پر روشنی۔

جنگ بدر کے یاد میں پروگرام

عید کے موقع پر عید ملن کا پروگرام، استقبالیہ بینر اور پمفلیٹ کا انتظام۔

عید کے موقع پر غریبوں یتیموں کو (Gifts)، تحفہ دینا۔

عید کے بعد‘‘عید ملن’’کا انعقاد جس میں مختلف مذاہب کے لوگ و افسران کو دعوت دینا، سیاسی لوگو سے پرہیز کیا جائے۔

عرس قاسمی برکاتی مارہرہ شریف کا وزٹ۔

حجاج کرام کے تربیت کے لئے‘‘حج ٹریننگ’’کیمپ کا انعقاد، حج گائیڈ کا فراہم کرنا، حاجیوں کے لئے‘‘الوداعی تقریب’’و واپس آنے پر‘‘استقبالیہ پروگرام’’کا انعقاد کرنا۔

عیدالاضحی کے موقع پر غریبوں میں گوشت کا تقسیم کرنا۔

محرم کے مہینے میں‘‘اہل بیت’’کی عظمت و افادیت اور کربلا کے حوالے سے تقریب کا انعقادکرنا۔

عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلّم کے موقع پر ایک ہفتہ مستقل‘‘سیرت ہفتہ’’کے نام سے منانا، جس میں سیرت کے حوالے سے مختلف پروگرام جیسے، طلباء کے درمیان مضمون نگاری (Essay Writing)، تقریری مقابلہ، کوئز مقابلہ اور نعت گوئی وغیرہ کا پروگرام انعقاد کرنا۔

جلوس میلاد میں بینر سمیت شرکت و شہر میں بینر لگانا۔ جلوس میں مناسب مقام و مقامات پر‘‘ممبرشپ کیمپ’’لگانا اور ممبرسازی کرنا، ساتھ ہی ہیلپ کیمپ کا بھی انعقاد کرنا۔

عرس رضوی کے موقع پرو عرس حضرت سید مخدوم اشرف علیہ الرحمہ و دیگر بزرگان دین کے عرس پر خاص گروپ زیارت کرنا و انکی خدمات پر پروگرام کرنا۔

یوم غوث اعظم پر‘‘تصوف’’کے حوالے سے پروگرام کرنا۔

ولینٹائن ڈے پر پوسٹر و پمفلیٹ کے ذریعہ اسلامی تہذیب و تمدن کو عام کرنا۔

طریقۂ کار (How to Work؟)

محلات، قصبات، شہر، کالج اور ہوسٹل اور یونیورسٹی میں ممبر بنانا۔

سارے ممبر کی ہر مہینے کی کسی طے شدہ تاریخ یا آخری اتوار میں میٹنگ ہو، جس میں اگلے پورے مہینے کے پلان پرغور وفکر ہو۔ اور گزشتہ مہینہ کی کارگزاری پر بحث ہو۔

شہر کے ہر مسجد میں ایم ایس او کا کم سے کم ایک نمائندہ ہو۔

شہر کے سبھی سکول، کالج اور دینی مدارس میں ایم ایس او کی شاخ ہو، مزید ہر کلاس اور جماعت کا ایک انچارج متعین ہو۔ انہیں انچارج کے ذریعے بنیادی مواد، پمفلیٹ اور لٹریچر کا تقسیم ہو۔ کہیں پر بھی ایم ایس او کا کوئی بھی پروگرام یا تقریب ہو تو انہیں انچارج کو فون، SMS کے ذریعہ اطلاع دی جائے۔

ماہانہ میٹنگ اور پروگرام کی باضابطہ ایک رجسٹر میں حاضری ہو جن میں فون، ای میل اور پورا پتہ ہو۔

شہر کے کسی سنی مسجد (بہتر ہے کہ جامع مسجد) میں ہفتہ واری ‘‘قرآن کلاسیز’’کا انعقاد ہو، جس میں وہ نوجوان یا شخص جو قرآن پڑھنا نہیں جانتے ہوں، انکو تجوید کے ساتھ قرآن سکھایا جائے۔

ہر میٹنگ کی رپورٹ تیار کیا جائے، اخبارات کٹنگس کو محفوظ رکھا جائے، اور مالی معاملے میں خاص توجہ دی جائے اورایک اکاؤنٹ کو تیار رکھا جائے۔

میڈیا اور نیوز والوں سے رابطہ رکھا جائے، ہر پروگرام کی رپورٹ کو اخبارات میں بھیجا جائے اور سماجی، ملی مسائل پر بھی پریس رلیز دیا جائے۔ سیاسی موضوعات پر یا کسی بھی سیاسی جماعت کے حمایت میں یا مخالفت میں کوئی بیان بازی نہ کی جائے۔